جس نے اپنی مصنوعی ٹانگوں کو چھپانے کی بجائے گلے لگا لیا

دلچسپ و عجیبNovember 22, 2025

 خوبصورتی، جوانی اور فیشن کی دنیا میں جہاں ہر قدم پر مخصوص معیارات پر پورا اترنے کا دباؤ ہوتا ہے، وہیں ایک نوجوان خاتون نے نہ صرف اپنی منفرد پہچان کو قبول کیا بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے حوصلے اور خود اعتمادی کی علامت بن گئی ہیں. سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک تصویر نے دھوم مچا دی جس میں ایک خوبصورت نوجوان خاتون ، ایک ہوٹل کے کوریڈور سے گزارتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کوئی ہینڈ بیگ نہیں بلکہ ان کی اپنی مصنوعی ٹانگیں ہیں، جنہیں وہ کسی فیشن کی طرح پُراعتماد انداز میں اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ  مشہور امریکی ماڈل لیریک ماریاہ ہِرڈ ہیں

 ایک وقت تھا جب لیریک ماریاہ ہِرڈ اپنی مصنوعی ٹانگوں کو لوگوں کی نظروں سے چھپاتی تھیں۔ آج وہی ۲۸ سالہ ماڈل انہیں فخر سے اٹھائے ہوٹل کے لابیز میں سے گزر رہی ہیں، جیسے کوئی قیمتی اثاثہ اٹھا رہی ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسے بچپن میں ہیل پہننے سے منع کیا جاتا تھا۔

لیریک ‘ایمینیوٹک بینڈ سنڈروم’ کے ساتھ پیدا ہوئیں، ایک نایاب حالت جس کی وجہ سے ان کی دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ موجود نہیں تھا اور ان کا ایک ہاتھ بھی مکمل طور پر تشکیل نہ پا سکا تھا۔ بچپن کے وہ دنوں میں جب تمام لڑکیاں ہیل پہن کر پارٹیوں میں جاتی تھیں، لیریک کو ڈاکٹروں کے حکم پر اپنی مصنوعی ٹانگوں کے ساتھ گھر بیٹھنا پڑتا تھا۔

ان کی زندگی میں موڑ اس وقت آیا جب ۲۰۱۹ میں انہیں دو نئی مصنوعی ٹانگیں ملیں۔ ایک “برٹھا” نامی جو روزمرہ کے استعمال کے لیے تھی، جبکہ دوسری “ٹینا” نامی خاص طور پر ہیل والے جوتوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس موقع پر ایک اسٹائلسٹ نے ان کی مدد کی اور بالآخر وہ دن بھی آیا جبلیریک نے پہلی بار ہیلز پہنیں۔

ایک معمولی سا واقعہ جس نے سب کچھ بدل دیا۔ ان کے ایک ساتھی نے تجویز دیا کہ وہ اپنی “ٹینا” نامی ٹانگ کو تبدیل کرتے ہوئے ایک ویڈیو بنائیں۔ یہ محض سات سیکنڈ کی ویڈیو تھی، مگر ان سات سیکنڈوں نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ ویڈیو وائرل ہو گئی اور لوگوں نے ان کے حوصلے کی تعریف کی۔

آج لیریک کہتی ہیں: “جو چیز زیادہ نظر آتی ہے، وہی زیادہ قبول کی جاتی ہے۔” یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنی مصنوعی ٹانگوں کو چھپاتی نہیں، بلکہ انہیں اپنی پہچان کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک تصویر نے دھوم مچا دی جس میں وہ اپنی مصنوعی ٹانگیں ہاتھ میں اٹھائے پُراعتماد انداز میں چل رہی ہیں۔

وہ فیشن کی دنیا میں ایک نئی روایت قائم کر رہی ہیں – ایسی روایت جہاں اختلاف کو خامی نہیں بلکہ خوبی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی اعضا صرف ضروری چیز نہیں بلکہ پہچان اور خوبصورتی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

لیریک کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہماری وہ خوبیاں جو ہمیں دوسروں سے الگ کرتی ہیں، درحقیقت ہمیں منفرد اور خاص بناتی ہیں۔ وہ باڈی پوزیٹیویٹی کے ساتھ ساتھ “باڈی نیوٹرالٹی” کا پیغام دیتی ہیں – یہ کہ ہمارا جسم ہماری پوری پہچان نہیں ہے۔ لیریک جیسی ہر انسان اپنی انہیں ‘خامیوں’ کو طاقت میں بدل سکتا ہے، بس ضرورت ہے خود کو قبول کرنے کے حوصلے کی۔

@phenixsoul Trying to beat the London rush hour #confidence #sexandthecity #fyp #limbdifference #bratzdoll #model #nyc #nyfw #onthisday #modelwalk #fashion ♬ original sound – Stan 🙂

Leave a reply


اپنے عطیات سے معزور افراد کی بحالی میں مدد کیجیئے

Follow
Sidebar Search
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...