آرتھوٹکس 1 min read · July 17, 2026

عام مسائل جن میں بچوں کو آرتھوٹکس کی ضرورت پڑتی ہے

چپٹے پاؤں (Flat Feet) 

چھوٹے بچوں کے پاؤں میں قدرتی طور پر آرچ نہیں ہوتا، یہ نارمل بات ہے۔ لیکن اگر 5-6 سال کی عمر کے بعد بھی آرچ نہیں بن رہا اور بچہ چلتے ہوئے تھکاوٹ یا درد کی شکایت کرے، تو یہ توجہ طلب ہے۔

حل: آرچ سپورٹ والی انسولز یا کسٹم میڈ فٹ آرتھوٹکس، جو آرچ کو سہارا دیتی ہیں اور چلنے میں آرام دیتی ہیں۔

پاؤں اندر کی طرف موڑ کر چلنا (In-Toeing)

یہ بہت عام مسئلہ ہے، خاص طور پر 2 سے 4 سال کے بچوں میں۔ آپ نوٹس کریں گے کہ بچہ چلتے وقت پاؤں اکثر ایک دوسرے میں الجھا کر گرتا ہے۔

حل: زیادہ تر کیسز خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن اگر شدید ہو تو ڈاکٹر خاص جوتے یا رات کو پہننے والی بریس تجویز کر سکتا ہے۔

سیریبرل پالسی سے متعلقہ چلنے کے مسائل (Cerebral Palsy) 

سیریبرل پالسی والے بچوں کے پٹھوں میں سختی یا کمزوری ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے ٹخنہ صحیح پوزیشن میں نہیں رہتا۔

حل: یہاں 

 استعمال ہوتی ہے — ایک بریس جو ٹخنے اور پاؤں کو سیدھا رکھتی ہے، تاکہ بچہ زیادہ آسانی اور توازن سے چل سکے۔AFO (Ankle-Foot Orthosis)

پیدائشی مڑا ہوا پاؤں  کلب فٹ (Clubfoot) 

کچھ بچے پیدائش سے ہی مڑے ہوئے پاؤں کے ساتھ آتے ہیں۔ اس کا علاج جتنی جلدی شروع ہو، اتنا ہی بہتر نتیجہ آتا ہے۔

حل: پونسیٹی طریقہ (Ponseti Method) کے بعد بچے کو ایک خاص بریس (Foot Abduction Brace) پہنائی جاتی ہے، جو پاؤں کو دوبارہ مڑنے سے روکتی ہے۔ یہ کئی مہینوں بلکہ سالوں تک پہننی پڑ سکتی ہے۔

ریڑھ کی ہڈی کا ٹیڑھا پن (Scoliosis)

بڑھتی عمر کے بچوں، خاص طور پر ٹین ایجرز میں، کبھی کبھار ریڑھ کی ہڈی ایک طرف مڑنا شروع ہو جاتی ہے۔

حل: ہلکے کیسز میں اسپائنل بریس استعمال ہوتی ہے جو ہڈی کو مزید مڑنے سے روکتی ہے، خاص طور پر جب بچہ ابھی بڑھ رہا ہو۔

کیسے پتا چلے کہ بچے کو آرتھوٹکس کی ضرورت ہے؟

اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی چیز نظر آئے تو ماہر رابطہ کریں:

  • چلتے ہوئے بار بار گرنا
  • جوتوں کا ایک طرف سے زیادہ گھِسنا
  • پاؤں یا ٹانگوں میں درد کی شکایت
  • عمر کے حساب سے چلنے میں دیر ہونا
  • چلتے وقت ٹخنے کا اندر یا باہر کی طرف جھکنا

ماہرین کی رائے میں چند اہم باتیں 💡

  • ہر بچہ مختلف ہے۔ جو آرتھوٹک ایک بچے کے لیے کام کرے، ضروری نہیں دوسرے کے لیے بھی صحیح ہو۔ ہمیشہ ماہر کی رائے سے ہی آرتھوٹک بنوائیں یا خریدیں۔
  • جلد تشخیص، بہتر نتیجہ۔ بچوں کی ہڈیاں اور پٹھے بڑھتے رہتے ہیں، اسی لیے چھوٹی عمر میں علاج زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
  • باقاعدگی ضروری ہے۔ آرتھوٹک صرف تب کام کرتی ہے جب ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مستقل پہنائی جائے۔
  • سائز بڑھنے پر تبدیل کریں۔ بچے کے پاؤں تیزی سے بڑھتے ہیں، اس لیے ہر 4-6 ماہ میں فٹنگ چیک کروائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا آرتھوٹکس مستقل طور پر پہننی پڑتی ہے؟ زیادہ تر کیسز میں نہیں۔ بہت سے بچے وقت کے ساتھ اور صحیح علاج سے آرتھوٹک کے بغیر بھی نارمل چل پاتے ہیں۔

سوال: کیا بازار سے عام انسولز خریدنا ٹھیک ہے؟ معمولی مسائل کے لیے ٹھیک ہو سکتا ہے، لیکن اگر مسئلہ زیادہ ہو تو کسٹم میڈ آرتھوٹک ہی بہتر نتیجہ دیتی ہے — یہ بچے کے پاؤں کے ناپ کے مطابق بنائی جاتی ہے۔

سوال: کیا آرتھوٹک پہننے سے بچے کو تکلیف ہوگی؟ شروع میں تھوڑی عجیب سی لگ سکتی ہے، لیکن صحیح فٹنگ سے چند دنوں میں بچہ عادی ہو جاتا ہے۔ اگر درد یا زخم ہو تو فوراً ماہر سے رابطہ کریں۔

بچوں کے پاؤں کا خیال رکھنا کوئی مشکل کام نہیں، بس تھوڑی سی توجہ اور بروقت مشورہ درکار ہے۔ اگر آپ کو اپنے بچے کے چلنے کے انداز میں کچھ بھی غیرمعمولی لگے، تو دیر نہ کریں — ماہر سے رابطہ کریں۔ وقت پر اٹھایا گیا قدم، بچے کے مستقبل کے قدموں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

About OPPAK

آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پاکستان میں آرتھوٹکس اور پروستھیٹکس کے شعبے کے لیے ایک مخصوص اور معلوماتی پلیٹ فارم ہے۔ ہمارا مقصد طلبہ، پیشہ ور افراد، مریضوں اور آجر اداروں کو مستند خبروں، تعلیمی مواقع، ملازمتوں، صنعت سے متعلق معلومات، اور کامیابی کی متاثر کن کہانیوں سے جوڑنا ہے، تاکہ اس شعبے میں آگاہی، رابطے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈسکلیمر: آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پر شائع کی جانے والی معلومات صرف تعلیمی اور آگاہی کے مقاصد کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم معلومات کی درستگی اور بروقت فراہمی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی خبر، ملازمت، تعلیمی پروگرام یا دیگر معلومات کی حتمی تصدیق متعلقہ ادارے یا تنظیم سے کرنا صارف کی ذمہ داری ہے۔ آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان کسی بھی ادارے، ملازمت، تعلیمی پروگرام، مصنوعات یا خدمات کی سرکاری نمائندگی یا توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا، الا یہ کہ اس کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہو۔ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کے لیے ہمیشہ مستند اور رجسٹرڈ صحت کے ماہرین سے رجوع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!