خبریں 1 min read · November 22, 2025

دبئی پولیس نے قیدی کو 87 ہزار درہم کا نیا پاؤں دے کر زندگی بدل دی

دبئی — دبئی پولیس نے ایک ۴۱ سالہ قیدی کو غیر معمولی انسانی ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے تقریباً ۸۷ ہزار درہم کا نیا مصنوعی عضو فراہم کیا ہے، تاکہ اس کی زندگی میں آسانی اور وقار واپس لایا جا سکے۔ یہ قیدی اپنی سابقہ مصنوعی ٹانگ کو تقریباً دس سال سے استعمال کر رہا تھا، اور وہ اب پرانی، فٹ نہ ہونے والی ٹانگ کی وجہ سے شدید زخموں، السر اور چلنے میں دشواری کا شکار تھا۔

دبئی پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ برائے سزا و اصلاحی ادارے کے سربراہ، میجر جنرل مروان عبد الکریم جل­فر، نے کہا کہ یہ اقدام اماراتی سماجی اور انسانی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، “ہم ہر ایک کو ایسے دیکھتے ہیں جو نگہداشت اور احترام کا مستحق ہے، چاہے اس کی قانونی یا قومی حیثیت کچھ بھی ہو۔”

نئے مصنوعی عضو کو ماہر مصنوعی اعضا (آرتھوٹسٹس) نے مخصوص ڈیزائن کے مطابق تیار کیا، اور اسےلگانے کے بعد قیدی کو چھ ماہ کی جسمانی تھراپی کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ نئے عضو کو زیادہ محفوظ اور قدرتی طریقے سے استعمال کر سکے۔

ڈاکٹروں کے مطابق، جب قیدی کو حراست میں لایا گیا تو اس کی پرانی ٹانگ کی حالت تشویشناک تھی۔ پرانے پروستھیسس کی وجہ سے اس کی جلد پر زخم بن گئے تھے، اور چلنے پھرنے میں شدید دشواری ہو رہی تھی، جس سے اس کی روزمرہ زندگی متاثر تھی۔

نیا مصنوعی عضو قیدی کی ٹانگ کی ساخت اور ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، اور مختلف ورزشوں کے ذریعے اس کی حرکت میں مزید بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دبئی پولیس کے مطابق یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہے، جس میں قیدیوں کی جسمانی، نفسیاتی اور سماجی بحالی کو بنیادی ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خدمات انسانیت، عزت اور ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ قدم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سزا کے نظام کے باوجود انسانیت اور احترام کی جگہ قائم رہ سکتی ہے۔ قیدیوں کو بھی وہ سہولیات ملنی چاہئیں جو ان کی صحت، وقار اور بہتر زندگی کے حق کو یقینی بنائیں۔

About OPPAK

OPPAK is Pakistan's dedicated hub for orthotics and prosthetics — connecting students, professionals, patients and employers with credible news, education pathways, jobs, and success stories.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *