خبریں 1 min read · December 1, 2025

جدید ٹیکنالوجی سے دیہی خواتین کا بااختیار سفر — بائیو نکس اور یو این ویمن کا نیا قدم

کراچی، پاکستان – یکم دسمبر 2025
سندھ کے اندرونی دیہات میں، جہاں تیز دھوپ، لمبے کھیت اور کچے گھروں کی زندگی روزمرہ کی حقیقت ہے، ایک خاموش لیکن معنی خیز تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ وہ خواتین جو سالوں سے جسمانی معذوری اور سخت حالات کے باعث گھر، کھیت اور معاشرے سے پیچھے رہتی آئی تھیں، اب ایک نئی طاقت، ایک نئی آزادی محسوس کر رہی ہیں۔

بائیو نکس — پاکستان کی معروف بائیو میکیٹرانکس کمپنی — نے یو این ویمن پاکستان کے ساتھ مل کر ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے جو خاص طور پر سندھ کے دیہی علاقوں کی خواتین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت انہیں ایسے جدید مصنوعی ہاتھ فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت (AI) استعمال ہوتی ہے، اور جو ان کی روزمرہ ضروریات کے مطابق بنائے گئے ہیں: درانتی پکڑنے سے لے کر برتن سنبھالنے، پانی کا گھڑا اٹھانے اور کھیتی باڑی کے عملی کاموں تک۔

30 نومبر کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی مختصر ویڈیو میں پہلی جھلک واضح تھی—سادہ کپڑوں میں ملبوس دیہی خواتین، دھوپ سے چمکتے کھیتوں میں اپنے نئے بائیونِک ہاتھ آزماتی ہوئی دکھائی دیں۔ کیپشن صرف اتنا تھا:
“یہاں سے ان کا سفر شروع ہوتا ہے۔”

بائیو نکس کی کہانی بھی کم دل چسپ نہیں۔ 2016 میں انجینئرز انس نیاز اور اویس قریشی نے کمپنی اس وقت بنائی جب ایک 5 سالہ بچے کے والدین اپنے بیٹے کے لیے سستا مگر بااعتماد مصنوعی ہاتھ مانگ رہے تھے۔ یونیورسٹی کے ایک چھوٹے پراجیکٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر آج سات ممالک تک پھیل چکا ہے، اور اب تک 700 سے زائد AI پر مبنی مصنوعی اعضاء فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ان کے ہاتھ ہلکے، پانی سے محفوظ ہوتے ہیں اور دماغی سگنلز سے چلتے ہیں۔ سب سے اہم بات—3D اسکیننگ کے ذریعے موبائل ایپ سے فٹنگ کی جاتی ہے، جس سے لاگت عالمی مصنوعی اعضاء کے مقابلے میں تقریباً 75 فیصد کم ہو کر صرف دو لاکھ روپے رہ جاتی ہے، جبکہ درآمد شدہ آلہ تقریباً آٹھ لاکھ کا پڑتا ہے۔

یہ نیا پائلٹ پروگرام سندھ کے ان علاقوں میں چلایا جا رہا ہے جہاں غربت، سیلاب اور محدود طبی سہولیات نے معذوری کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یو این ویمن نے اپنی کمیونٹی رسائی کے ذریعے اس منصوبے کو وہ گھرانہ تک پہنچایا ہے جہاں خواتین خاموشی سے بڑے بوجھ اٹھاتی آئی ہیں۔ مصنوعی ہاتھ عام ڈیزائن نہیں—بلکہ ان کاموں کے مطابق بدلے گئے ہیں جو ایک دیہی عورت کے حقیقی روزمرہ کا حصہ ہیں۔

زیرو پراجیکٹ ایوارڈ 2025 جیتنے کے بعد، بائیو نکس کے سی ای او انس نیاز نے کہا:
“یہ شراکت داری اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی سب کے لیے برابر ہونی چاہیے — چاہے وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی دور افتادہ گاؤں میں۔”

پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے مطابق 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو مصنوعی اعضاء اور آرتھوٹک آلات کی ضرورت ہے، اور معذوری کا سب سے زیادہ اثر دیہی خواتین پر پڑتا ہے۔ بائیو نکس پہلے ہی اپنے ویلفیئر فنڈ کے ذریعے 80 فیصد مریضوں کو مفت یا سبسڈائزڈ سہولت فراہم کرتا ہے۔ اب یو این ویمن کے ساتھ مل کر اس پراجیکٹ کا ہدف ہے کہ پہلے سال میں سینکڑوں خواتین تک رسائی حاصل کی جائے۔

چیلنجز ضرور ہیں—دور دراز علاقوں تک رسائی، سماجی بدنامی اور ٹیکنالوجی کی آگاہی—لیکن ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ گزشتہ ہفتے میلو میراتھن میں بائیو نکس کے صارف بلال اور ابو تراب نے تمغے جیت کر یہ ثابت کیا کہ معذوری رکاوٹ نہیں، صرف ذہن کی ایک لکیر ہے۔

سندھ کی یہ خواتین اب جس راستے پر قدم رکھ رہی ہیں، وہ راستہ نہ صرف ان کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی، سماجی مساوات اور خواتین کے بااختیار مستقبل کی ایک نئی مثال بھی قائم کر رہا ہے۔

About OPPAK

آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پاکستان میں آرتھوٹکس اور پروستھیٹکس کے شعبے کے لیے ایک مخصوص اور معلوماتی پلیٹ فارم ہے۔ ہمارا مقصد طلبہ، پیشہ ور افراد، مریضوں اور آجر اداروں کو مستند خبروں، تعلیمی مواقع، ملازمتوں، صنعت سے متعلق معلومات، اور کامیابی کی متاثر کن کہانیوں سے جوڑنا ہے، تاکہ اس شعبے میں آگاہی، رابطے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈسکلیمر: آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پر شائع کی جانے والی معلومات صرف تعلیمی اور آگاہی کے مقاصد کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم معلومات کی درستگی اور بروقت فراہمی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی خبر، ملازمت، تعلیمی پروگرام یا دیگر معلومات کی حتمی تصدیق متعلقہ ادارے یا تنظیم سے کرنا صارف کی ذمہ داری ہے۔ آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان کسی بھی ادارے، ملازمت، تعلیمی پروگرام، مصنوعات یا خدمات کی سرکاری نمائندگی یا توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا، الا یہ کہ اس کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہو۔ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کے لیے ہمیشہ مستند اور رجسٹرڈ صحت کے ماہرین سے رجوع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!