
ہر بچہ اپنی رفتار کے مطابق بڑا ہوتا ہے، مگر بعض اوقات والدین کو یہ فکر ہونے لگتی ہے کہ ان کا بچہ ابھی تک نہیں چل رہا۔ عام طور پر بچے ایک سال کے اندر اندر چلنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن کچھ بچے پندرہ یا سولہ ماہ کے بعد بھی قدم نہیں اٹھا پاتے۔ یہ تاخیر ہر بار خطرے کی نشانی نہیں ہوتی، مگر کچھ چیزیں ضرور سمجھ لینی چاہئیں۔ اگر بچہ بیٹھنے، اٹھنے یا کھڑے ہونے میں بھی کمزوری محسوس کرتا ہے یا دس ماہ کے بعد بھی کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کر رہا تو یہ اشارہ ہے کہ اس کے پٹھوں یا ہڈیوں میں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی، پٹھوں کی کمزوری، ہپ جوائنٹ کی خرابی، یا نیورولوجیکل مسائل اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
گھر میں کیے جانے والے اقدامات
بچے کا روزمرہ مشاہدہ شروع کریں
سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ بچہ کیسے بیٹھتا ہے، کیسے کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے، اور کیا اس میں کسی قسم کی کمزوری یا جھجک محسوس ہوتی ہے۔ صرف چلنے پر نہیں، مجموعی جسمانی حرکت پر غور کریں۔
وٹامن ڈی اور آئرن والی خوراک بہتر بنائیں
خوراک میں انڈہ، دودھ، دہی، کیلشیم اور سن لائٹ کا وقت شامل کریں۔ اکثر بچوں میں کمزوری غذا کے باعث ہوتی ہے، جو ٹھیک کی جا سکتی ہے۔
بچے کو کھڑے ہونے اور سہارے سے چلنے کی ہلکی مشق کروائیں
فرنیچر کے ساتھ پکڑ کر کھڑا کرنا، ہاتھ پکڑ کر چند قدم چلوانا، اور بیلنس کی کھیلوں کی مشقیں مدد کرتی ہیں۔ یہ سب بچے کو اعتماد دیتے ہیں۔
زمین پر کھیلنے کا وقت بڑھائیں
زیادہ دیر گود یا واکر میں رکھنے کے بجائے زمین پر بیٹھ کر کھیلنا بہتر ہے۔ یہ پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے اور نیچرل طریقے سے چلنے کی تیاری کرواتا ہے۔
غیر ضروری پریشر نہ ڈالیں اور بچے کو اپنی مرضی سے کوشش کرنے دیں
بچہ جب بےفکری سے کھیلتا ہے تو بہتر سیکھتا ہے۔ زیادہ زور زبردستی، ڈانٹ یا بار بار چلنے کا دباؤ بچے میں ڈر پیدا کرتا ہے۔
علاج والے اقدامات
اگر بچہ چودہ یا پندرہ ماہ تک کھڑے ہونے یا چلنے کی کوشش نہیں کر رہا تو ماہرِ اطفال سے اسکریننگ کروائیں
یہ پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ ڈاکٹر سادہ ٹیسٹ کر کے اندازہ لگا لیتا ہے کہ تاخیر نارمل ہے یا نہیں۔
ہڈیوں یا پٹھوں سے متعلق مسئلہ ہو توفزیو تھراپسٹ یا آرتھوٹسٹ سے معائنہ کروائیں
اگر ڈاکٹر کو لگے کہ پٹھوں میں کمزوری، ہپ جوائنٹ کا مسئلہ یا فلیٹ فٹ کی شدت ہے تو وہ آگے متعلقہ ماہر کے پاس بھیجتا ہے۔
بچے کے بٹھوں کی طاقت کا معاینہ کروائیں
یہ وہ ٹیسٹ ہے جن سے پتا چلتا ہے کہ بچہ کیوں نہیں چل رہا:
پٹھے کمزور ہیں؟ ہاتھ پاؤں سخت ہیں؟ بیلنس کا مسئلہ ہے؟ یہ معائنہ تشخیص کو واضح بناتا ہے
مشورے کے مطابق فزیوتھراپی، ایکسرسائز پلان یا آرتھوٹس (سہارے) شروع کریں
اگر تھراپی کی ضرورت ہو تو جلد شروع کرنا بہتر ہوتا ہے۔ بروقت علاج کبھی بھی دیر سے بہتر ہے۔
فالو اپ جاری رکھیں اور گھر کی مشقیں مسلسل کروائیں
صرف کلینک میں کیے گئے سیشن کافی نہیں ہوتے۔ ماہانہ یا دو ماہ بعد دوبارہ چیک اپ ضروری ہے تاکہ پتا چل سکے کہ بچہ بہتری کی طرف جا رہا ہے یا مزید سپورٹ چاہیے۔
والدین کو چاہیے کہ انتظار کے بجائے کسی مستند ماہر سے اسکریننگ کروائیں، کیونکہ جلد پتہ چل جانا بچے کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔ اگر وجہ معمولی ہو تو تھوڑی سی تھراپی اور گھر کی مشقیں کافی ہوتی ہیں، لیکن اگر معاملہ بڑا ہو تو بروقت علاج بچے کے مستقبل کو بہتر کر سکتا ہے۔ دیر سے چلنا شرمندگی نہیں، یہ صرف ایک اشارہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔