عوامی آگاہی 1 min read · July 25, 2026

نہلانے کے بعد ایک منٹ رک جائیں — یہ چھوٹا سا ٹیسٹ بچے کی کمر بچا سکتا ہے

اگلی بار جب آپ کے بچے کو نہلانے کے بعد تولیہ لپیٹیں، تو ایک منٹ رک کر اس کی پیٹھ دیکھیں۔ عجیب لگے گا، لیکن یہی وہ ایک منٹ ہے جو مستقبل میں بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔

سکولیوسس، یعنی ریڑھ کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا، شروع میں کوئی درد یا تکلیف نہیں دیتا۔ بچہ نارمل کھیلتا ہے، نارمل چلتا ہے، کوئی شکایت نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر والدین کو پتہ ہی نہیں چلتا جب تک ٹیڑھا پن کافی بڑھ نہیں جاتا۔ ماہرین اسی لیے ایک بہت سادہ گھریلو ٹیسٹ بتاتے ہیں جسے فارورڈ بینڈ ٹیسٹ کہا جاتا ہے، اور اسے کرنے کے لیے نہ کسی مشین کی ضرورت ہے، نہ کسی خاص تربیت کی۔ بس دو منٹ اور تھوڑی سی توجہ۔

طریقہ بہت آسان ہے۔ بچے کو کہیں کہ وہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پاؤں آپس میں ملے ہوئے اور گھٹنے بالکل سیدھے، بغیر مڑے ہوئے۔ اس کے بعد بچے سے کہیں کہ وہ آہستہ آہستہ آگے کی طرف جھکے، جیسے اپنے پاؤں کی انگلیوں کو ہاتھ سے چھونے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیں، زور لگانے کی ضرورت نہیں۔

جب بچہ اس پوزیشن میں پوری طرح جھک جائے، تو آپ اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہو کر کمر کو غور سے دیکھیں۔ ایک صحت مند ریڑھ کی ہڈی میں کمر کی دونوں جانب برابر اور یکساں نظر آنی چاہیے، جیسے دو آئینے کی تصویریں ہوں۔ لیکن اگر آپ کو کمر کا کوئی ایک حصہ دوسرے سے واضح طور پر اونچا نظر آئے، یا پسلیوں کا ایک طرف کا حصہ باہر کی طرف ابھرا ہوا لگے، تو یہ ایک اشارہ ہو سکتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں کچھ گڑبڑ ہے۔

یہاں ایک بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ایک ابتدائی اشارہ دیتا ہے، حتمی تشخیص نہیں۔ اگر آپ کو کچھ غیرمعمولی نظر آئے تو گھبرانے کی بجائے سیدھا بچوں کے آرتھوپیڈک ماہر کے پاس جائیں، جہاں مکمل معائنہ اور ضرورت پڑنے پر ایکسرے کے ذریعے حتمی تصویر سامنے آئے گی۔ ممکن ہے یہ کچھ نہ ہو، بس بچے کے کھڑے ہونے کے انداز کا فرق ہو۔ لیکن اگر واقعی سکولیوسس ہو، تو جتنی جلدی پتہ چلے گا، علاج اتنا ہی آسان اور مؤثر ہوگا۔

یہ ٹیسٹ کب کرنا چاہیے؟ ماہرین عام طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ 10 سے 15 سال کی عمر کے دوران، یعنی جب بچہ تیزی سے قد بڑھا رہا ہو، وقتاً فوقتاً یہ چیک کرتے رہیں۔ یہ وہ عمر ہے جس میں سکولیوسس سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے، اور لڑکیوں میں اس کا خطرہ کچھ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے کئی سکولوں میں بھی اب یہ ٹیسٹ معمول کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ایک اور فائدہ مند بات یہ ہے کہ آپ اسی موقع پر بچے کے کندھوں پر بھی نظر ڈال سکتے ہیں۔ سیدھا کھڑے ہونے کی حالت میں دونوں کندھوں کی اونچائی برابر ہونی چاہیے، اور کولہوں کی سطح بھی ایک جیسی۔ اگر ایک کندھا واضح طور پر اونچا نظر آئے یا کپڑے ایک طرف سے زیادہ لٹکتے ہوں، تو یہ بھی وہی علامات ہیں جن پر توجہ دینی چاہیے۔

اصل میں یہ ٹیسٹ اتنا آسان اس لیے بنایا گیا ہے کہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی یہ کر سکے، بغیر کسی خاص آلے یا ڈاکٹر کی موجودگی کے۔ بس ذرا سی توجہ اور دو منٹ کا وقت۔ اور اگر یہ عادت آپ سال میں دو تین بار بنا لیں، خاص طور پر جب بچہ نہا کر نکلے، تو کوئی بھی تبدیلی جلد نظر آ جائے گی، اس سے پہلے کہ وہ بڑا مسئلہ بنے۔

سیدھی سی بات ہے، بچوں کی صحت میں سب سے بڑا کردار وہی چھوٹی چھوٹی نظریں ادا کرتی ہیں جو والدین روزانہ ڈالتے ہیں۔ یہ فارورڈ بینڈ ٹیسٹ بھی اسی چوکسی کا ایک آسان اور مفید حصہ ہے۔

About OPPAK

آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پاکستان میں آرتھوٹکس اور پروستھیٹکس کے شعبے کے لیے ایک مخصوص اور معلوماتی پلیٹ فارم ہے۔ ہمارا مقصد طلبہ، پیشہ ور افراد، مریضوں اور آجر اداروں کو مستند خبروں، تعلیمی مواقع، ملازمتوں، صنعت سے متعلق معلومات، اور کامیابی کی متاثر کن کہانیوں سے جوڑنا ہے، تاکہ اس شعبے میں آگاہی، رابطے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈسکلیمر: آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پر شائع کی جانے والی معلومات صرف تعلیمی اور آگاہی کے مقاصد کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم معلومات کی درستگی اور بروقت فراہمی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی خبر، ملازمت، تعلیمی پروگرام یا دیگر معلومات کی حتمی تصدیق متعلقہ ادارے یا تنظیم سے کرنا صارف کی ذمہ داری ہے۔ آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان کسی بھی ادارے، ملازمت، تعلیمی پروگرام، مصنوعات یا خدمات کی سرکاری نمائندگی یا توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا، الا یہ کہ اس کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہو۔ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کے لیے ہمیشہ مستند اور رجسٹرڈ صحت کے ماہرین سے رجوع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!