
ایک نئی تحقیق جو بے حد دلچسپ اور امید افزا پیش رفت ہے جس کا مقصد بنیادی بایونک گھٹنے تیار کرنا ہے جو نہ صرف طاقتور حرکت فراہم کرتا ہے بلکہ جسم کے اعصاب اور عضلات کے ساتھ براہِ راست جڑ کر زیادہ قدرتی احساس بھی دیتا ہے۔ یہ ڈیوائس ہڈی میں لگے امپلانٹ کے ذریعے جسم سے مضبوطی سے منسلک ہوتی ہے اور اعصابی کنٹرول کے ذریعے یوزر کی نیت اور حرکت کو براہِ راست سمجھتی ہے، بالکل ویسے جیسے قدرتی ٹانگ کا نظام کام کرتا ہے۔
اس تحقیقی نظام میں “ایگونسٹ-انٹَگونسٹ مایونَیورل انٹرفیس” استعمال کیا گیا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جو عضلات کے اصل توازن اور ان کے باہمی رابطے کو دوبارہ بناتا ہے، تاکہ مریض کو یہ محسوس ہو کہ اس کی مصنوعی ٹانگ حقیقت میں اس کے جسم کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چونکہ یہ پروتھیسس ہڈی میں لگایا جاتا ہے، اس لیے حرکت زیادہ محفوظ، مضبوط اور مستحکم ہو جاتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو دو ایسے مریضوں پر آزمایا گیا جن کی ٹانگ گھٹنے سے اوپر تھی۔ حیرت انگیز طور پر دونوں مریضوں نے اس بایونک گھٹنے کے ساتھ نہ صرف بہتر کنٹرول دکھایا بلکہ ناہموار راستوں پر چلنے، سیڑھیاں چڑھنے، بیٹھنے اور دوبارہ کھڑے ہونے جیسی روزمرہ اور پیچیدہ حرکتیں بھی زیادہ قدرتی انداز میں کر پائے۔ ان کے مطابق انہیں اپنی ٹانگ کی پوزیشن کا احساس پہلے سے بہتر ہونے لگا، جو روایتی مصنوعی ٹانگوں میں تقریباً ممکن نہیں ہوتا۔
اس تحقیق سے امید پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی اعضا صرف حرکت دینے والی مشینیں نہیں ہوں گے، بلکہ جسم کا حصہ بن کر احساس بھی دیں گے۔ یعنی مریض نہ صرف چلیں گے بلکہ اپنی ٹانگ کو “محسوس” بھی کریں گے، جس سے ان کی زندگی کا معیار کئی گنا بہتر ہو سکتا ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور صرف دو افراد پر آزمائی گئی ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر استعمال سے پہلے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ سرجری کے خطرات، لمبے عرصے کی پائیداری اور ہر مریض کے لیے موزونیت جیسے سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔
پھر بھی، یہ پیش رفت قطعِ عضو شدہ افراد کے لیے ایک نئے دور کی پہلی جھلک ہے—ایک ایسا دور جہاں مصنوعی اعضا جسم کے ساتھ صرف جڑیں گے نہیں بلکہ “رابطہ” بھی کریں گے، جیسے وہ ہمیشہ سے جسم کا حصہ رہے ہوں۔