سکول جانے والے بچوں کے لیے صحیح جوتوں کا انتخاب کیسے کریں؟
نیا تعلیمی سال شروع ہونے والا ہے، اور اکثر گھروں میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ بستے، کتابوں اور یونیفارم پر جاتی ہے۔ جوتے؟ وہ آخر میں، جلدی جلدی، کسی بھی دکان سے خرید لیے جاتے ہیں۔
لیکن ذرا سوچیں — آپ کا بچہ روزانہ 6-7 گھنٹے انہی جوتوں میں چلتا، دوڑتا اور کھیلتا ہے۔ ایک غلط جوتا صرف تکلیف کی بات نہیں، یہ بچے کے پاؤں کی بڑھوتری اور چلنے کے انداز پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ صحیح جوتا کیسے چنیں۔
پہلے یہ سمجھیں: بچوں کے پاؤں بڑوں جیسے نہیں ہوتے
بچوں کے پاؤں کی ہڈیاں نرم اور لچکدار ہوتی ہیں، اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ شکل لیتی رہتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کے جوتے صرف “چھوٹے سائز کے بڑوں کے جوتے” نہیں ہونے چاہئیں — انہیں بچے کی بڑھتی ہڈیوں کو مدنظر رکھ کر بنایا اور چنا جانا چاہیے۔
صحیح جوتا چننے کے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں
1. سائز — تھوڑی جگہ چھوڑیں، لیکن زیادہ نہیں
جوتا نہ بہت تنگ ہو نہ بہت ڈھیلا۔ ایک عام اصول یہ ہے کہ بچے کے پاؤں کی سب سے لمبی انگلی اور جوتے کی نوک کے درمیان تقریباً ایک انگلی جتنی جگہ ہونی چاہیے۔ اتنی جگہ پاؤں کو بڑھنے کی گنجائش دیتی ہے، مگر اتنی زیادہ نہیں کہ چلتے ہوئے پاؤں جوتے کے اندر پھسلے۔
والدین کے لیے ٹِپ: بچے کو ہمیشہ جوتا خریدتے وقت دونوں پاؤں ناپیں — اکثر ایک پاؤں دوسرے سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے، اور جوتا بڑے پاؤں کے حساب سے لینا چاہیے۔
2. تلوا — نرم مگر سہارا دینے والا
جوتے کا تلوا ایسا ہو جو تھوڑا سا موڑا جا سکے (خاص طور پر انگلیوں کی جگہ سے)، لیکن بیچ سے مضبوط رہے۔ اگر پورا جوتا کاغذ کی طرح مڑ جائے، تو اس میں پاؤں کو مناسب سہارا نہیں ملے گا۔
3. مواد — ہوا لگنے دے
کینوس، لیدر یا میش جیسے سانس لینے والے مواد بہتر ہیں، خاص طور پر گرم موسم میں۔ اس سے پسینہ کم بنتا ہے اور فنگل انفیکشن کا خطرہ گھٹتا ہے۔
4. بندھن کا نظام — لیس یا ویلکرو؟
چھوٹے بچوں کے لیے ویلکرو (Velcro) والے جوتے بہتر ہیں کیونکہ یہ پاؤں کو اچھی طرح فٹ رکھتے ہیں اور بچہ خود بھی پہن سکتا ہے۔ تھوڑے بڑے بچوں کے لیے لیس والے جوتے ٹھیک ہیں، بشرطیکہ وہ باندھنا سیکھ چکے ہوں۔
5. ایڑی کی مضبوطی
جوتے کی ایڑی والا حصہ تھوڑا سخت ہونا چاہیے تاکہ ٹخنے کو سہارا ملے۔ اگر ایڑی کا حصہ ہاتھ سے دبانے پر آسانی سے مڑ جائے، تو یہ جوتا لمبے عرصے چلنے یا دوڑنے کے لیے مناسب نہیں۔
عام غلطیاں جو والدین اکثر کرتے ہیں
- “تھوڑا بڑا لے لیتے ہیں، آگے بھی چل جائے گا” — یہ سوچ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ بہت بڑا جوتا بچے کے چلنے کے انداز کو خراب کر سکتا ہے اور گرنے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
- پرانے جوتے بہن بھائی سے لے کر دوبارہ استعمال کرنا — جوتا پہلے پہننے والے بچے کے پاؤں کی شکل میں ڈھل چکا ہوتا ہے، جو نئے بچے کے پاؤں کے لیے صحیح نہیں۔
- صرف نظر آنے والی چیزوں (رنگ، ڈیزائن) کی بنیاد پر خریدنا — فٹنگ اور سہارا سب سے پہلے دیکھیں، دکھاوا بعد میں۔
- مہینوں تک سائز چیک نہ کرنا — بچوں کے پاؤں تیزی سے بڑھتے ہیں، خاص طور پر 3 سے 8 سال کی عمر میں۔
کتنے عرصے بعد جوتا بدلنا چاہیے؟
ایک عام اصول کے طور پر ہر 3 سے 4 مہینے بعد بچے کے جوتوں کی فٹنگ چیک کرنی چاہیے، خاص طور پر تیزی سے بڑھنے والی عمر میں۔ اگر بچہ بار بار جوتے کی طرف اشارہ کرے، جرابیں اتار کر انگلیاں دبائے، یا جوتا پہننے میں ہچکچائے، تو یہ سائز چھوٹا ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
کن حالات میں عام جوتا کافی نہیں؟
اگر بچے کو پہلے سے کوئی مسئلہ ہو — جیسے چپٹے پاؤں (flat feet)، پاؤں اندر کی طرف موڑ کر چلنا، یا چلتے ہوئے بار بار گرنا — تو عام سکول جوتے کے بجائے ماہر کی تجویز کردہ آرچ سپورٹ والی انسول یا کسٹم آرتھوٹک زیادہ بہتر نتیجہ دے سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پہلے کسی آرتھوپیڈک یا آرتھوٹک ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
ماہرین کی رائے میں چند مفید ٹِپس
- بچے کو جوتا خریدتے وقت ساتھ لے جائیں اور اسے تھوڑی دیر پہن کر چلنے دیں، صرف کھڑے ہو کر ناپ لینا کافی نہیں۔
- خریداری کا بہترین وقت شام کا ہے، کیونکہ دن بھر چلنے کے بعد پاؤں تھوڑا پھیل جاتا ہے۔
- بچے سے پوچھیں کہ جوتا کہیں سے دبا تو نہیں رہا — بچے اکثر خود بتا دیتے ہیں اگر انہیں تکلیف ہو۔
آخری بات
سکول کا نیا سال بچے کے لیے نئی توانائی اور نئے تجربات لے کر آتا ہے۔ صحیح جوتا اس سفر کا ایک چھوٹا مگر اہم حصہ ہے۔ تھوڑی سی توجہ اور صحیح انتخاب، بچے کے آرام دہ اور صحت مند دن کو یقینی بنا سکتا ہے۔
آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پاکستان میں آرتھوٹکس اور پروستھیٹکس کے شعبے کے لیے ایک مخصوص اور معلوماتی پلیٹ فارم ہے۔ ہمارا مقصد طلبہ، پیشہ ور افراد، مریضوں اور آجر اداروں کو مستند خبروں، تعلیمی مواقع، ملازمتوں، صنعت سے متعلق معلومات، اور کامیابی کی متاثر کن کہانیوں سے جوڑنا ہے، تاکہ اس شعبے میں آگاہی، رابطے اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈسکلیمر: آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان پر شائع کی جانے والی معلومات صرف تعلیمی اور آگاہی کے مقاصد کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم معلومات کی درستگی اور بروقت فراہمی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی خبر، ملازمت، تعلیمی پروگرام یا دیگر معلومات کی حتمی تصدیق متعلقہ ادارے یا تنظیم سے کرنا صارف کی ذمہ داری ہے۔ آرتھوٹکس پروستھیٹکس پاکستان کسی بھی ادارے، ملازمت، تعلیمی پروگرام، مصنوعات یا خدمات کی سرکاری نمائندگی یا توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا، الا یہ کہ اس کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہو۔ طبی مشورے، تشخیص یا علاج کے لیے ہمیشہ مستند اور رجسٹرڈ صحت کے ماہرین سے رجوع کریں۔
