
لندن — جم ایشورتھ بیومونٹ کی زندگی ایک حیران کن موڑ لے چکی ہے۔ کئی دہائیوں تک وہ مصنوعی اعضا کے ماہر رہے، لیکن اب وہ خود ایک ایسے مریض ہیں جنہوں نے حادثے میں اپنا داہنا بازو کھو دیا۔ یہ واقعہ 2020 کا ہے، جب جم اپنے سائیکل کے ذریعے گھر لوٹ رہے تھے اور ایک ٹرک نے انہیں ٹکر مار دی۔ اس شدید حادثے نے ان کی زندگی بدل دی اور انہیں موت کے کنارے پر پہنچا دیا۔

ایشورتھ بیومونٹ پہلے رائل میرین رہے اور بعد میں پروستھیٹکس اور آرتھوٹیکس میں مہارت حاصل کی۔ وہ سالوں تک مریضوں کو مصنوعی اعضا فراہم کرتے اور اس پر تحقیق کرتے رہے۔ لیکن اب وہ خود اس تجربے کا حصہ بن گئے جو روایتی مصنوعی بازو سے بالکل مختلف ہے
جم نے یہ سرجری 2024 میں کروائی، جس میں معروف سرجن ایڈمنڈ فٹزجرالڈ او’ کونر نے انہیں کامیابی سے آپریشن کیا۔ یہ سرجری، اگرچہ حیرت انگیز نتائج دیتی ہے، اپنے ساتھ چیلنجز بھی لاتی ہے: بعض مریضوں میں امپلانٹ یا ہڈی کے مسائل، انفیکشن کا خطرہ اور سب سے بڑی بات، مہنگائی۔ اس لیے ہر کسی کے لیے یہ آسان نہیں۔
اوسِٹیواینٹیگریشن اس طریقے میں مصنوعی بازو کو براہِ راست ہڈی کے اندر ٹیٹینیم امپلانٹ کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔ روایتی سوکٹ کی جگہ یہ طریقہ حرکت کو زیادہ قدرتی بناتا ہے، اور تکلیف کم کرتا ہے، اور جسم کی پوزیشن کا احساس بہتر بناتا ہے۔ جم کے مطابق، اب وہ محسوس کرتے ہیں جیسے اپنا بازو دوبارہ حاصل کر لیا ہو۔

جم اب نہ صرف اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ وہ ایک وکیل کی طرح کام کر رہے ہیں تاکہ اوسِوئنٹیگریشن زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ان کے مطابق، برطانیہ میں لاکھوں افراد جو ہر سال مصنوعی اعضا کی خدمات لیتے ہیں، اگر وسائل اور راہنمائی ہو تو اس جدید طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرجن او’ کونر بھی کہتے ہیں کہ اگر مریض درست ہوں اور مالی معاملات مناسب ہوں تو یہ طریقہ مستقبل کے بائیونک دور کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
جم ایشورتھ-بیومونٹ کی کہانی صرف ایک ذاتی جدوجہد کی عکاسی نہیں کرتی، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس طرح سائنس، ٹیکنالوجی اور انسان کا عزم مل کر زندگی بدل سکتی ہے اور مصنوعی اعضا کو محض فٹنگ کی چیز سے انسان کا حصہ بنا سکتی ہے۔